سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب الْمَرْأَةِ يُزَوِّجُهَا الْوَلِيَّانِ:
ایک عورت کے دو ولی الگ الگ شادی کر دیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا عَفَّان، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی حسن نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ویسی ہی حدیث بیان کی جیسی اوپر ذکر کی گئی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 2240] »
اس حدیث کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ حسن کا سماع سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [الطيالسي 1555] ، [أحمد 11/5، 12، 18] ، [ابن الجارود 622] ، [الحاكم 35/2] ، [طبراني 203/7، 6841] ، [وانظر تلخيص الحبير 165/3]
اس حدیث کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ حسن کا سماع سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [الطيالسي 1555] ، [أحمد 11/5، 12، 18] ، [ابن الجارود 622] ، [الحاكم 35/2] ، [طبراني 203/7، 6841] ، [وانظر تلخيص الحبير 165/3]
وضاحت: (تشریح احادیث 2229 سے 2231)
گرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن صحیح یہی ہے جو حدیث میں ذکر ہوا کہ ایک خاتون کے دو ولی جب دو مختلف آدمیوں سے مختلف اوقات میں نکاح کر دیں تو وہ عورت اس آدمی کی بیوی قرار پائے گی جس سے پہلے نکاح کیا گیا ہو اور دوسرا نکاح از خود باطل قرار پائے گا، کیونکہ شریعت نے نکاح پر نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے، اور اگر دونوں نکاح بیک وقت کئے جائیں تو دونوں باطل قرار پائیں گے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، اسی طرح بیع کا معاملہ ہے، جب ایک چیز ایک شخص کے ہاتھ بک گئی تو دوسرے ولی کا بیچنا ناجائز ہوگا۔
اگر بیچا تو پہلے ولی کا ہی اعتبار ہوگا۔
واللہ اعلم۔
گرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن صحیح یہی ہے جو حدیث میں ذکر ہوا کہ ایک خاتون کے دو ولی جب دو مختلف آدمیوں سے مختلف اوقات میں نکاح کر دیں تو وہ عورت اس آدمی کی بیوی قرار پائے گی جس سے پہلے نکاح کیا گیا ہو اور دوسرا نکاح از خود باطل قرار پائے گا، کیونکہ شریعت نے نکاح پر نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے، اور اگر دونوں نکاح بیک وقت کئے جائیں تو دونوں باطل قرار پائیں گے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، اسی طرح بیع کا معاملہ ہے، جب ایک چیز ایک شخص کے ہاتھ بک گئی تو دوسرے ولی کا بیچنا ناجائز ہوگا۔
اگر بیچا تو پہلے ولی کا ہی اعتبار ہوگا۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← قتادة بن دعامة السدوسي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
Sunan Darmi Hadith 2231 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري