🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب ما أصاب أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم فى مغازيهم من الشدة:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے غزوات میں جو مشقتیں برداشت کیں اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2452
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: "كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلا هذَا السَّمُرُ، وَوَرَقُ الْحُبْلَةِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَالَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي! لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِيَهْ".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، اس وقت ہمارے ساتھ درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں بکریوں کی طرح اجابت ہوئی تھی یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی (میگنیوں کی طرح اجابت ہوتی) لیکن اب بنواسد میرے اندر عیب نکالتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سارے کام، اعمالِ صالحہ برباد ہوگئے۔ (سمر اور ورق الحبلہ درخت کے پتوں کو کہتے ہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2459] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3728] ، [مسلم 2966] ، [ترمذي 2365] ، [أبويعلی 732] ، [الحميدي 78]
وضاحت: (تشریح حدیث 2451)
ہوا یہ تھا کہ بنو اسد نے امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی چغلی کھائی تھی کہ وہ صحیح طرح نماز نہیں پڑھتے، لوگوں کے درمیان صحیح وقت پر فیصلے نہیں کرتے وغیرہ، لیکن یہ سب غلط تھا، اور جس شخص نے یہ الزامات لگائے تھے اس کے لئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بددعا کی جو قبول ہوئی، اور مرتے دم تک اس شخص کا پیچھا نہ چھوڑا، وہ کہا کرتا تھا: ہے مجھے سعد کی بددعا لگ گئی، اللہ والوں کو ستانے کا یہی انجام ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ابتدائے اسلام میں کس قدرمشقتیں برداشت کیں ہیں کہ کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا، اور پتے چبا کر، چھالیں چوس کر زندگی گذارتے تھے۔
«(رضي اللّٰه عنهم وأرضاهم).»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف
Newيعلى بن عبيد الطناقسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين
Sunan Darmi Hadith 2452 in Urdu