🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب مَنْ أَخَذَ شِبْراً مِنَ الأَرْضِ:
ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کرنا باعث عذاب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق (قیامت کے دن) اس کو پہنایا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2648] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2452] ، [مسلم 1610] ، [أبويعلی 949] ، [ابن حبان 3194] ، [الحميدي 83]
وضاحت: (تشریح حدیث 2641)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنا بڑا بھیانک جرم ہے، اور اس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن اس کو زمین کے ساتوں طبق کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔
بعض علماء نے کہا کہ سات طبقوں تک اسے دھنسا دیا جائے گا، اور بعض نے کہا کہ سات زمینوں کی مٹی ڈھونے کا اس کو حکم دیا جائے گا، اس دن جب کہ سورج کی حدت و تمازت سے لوگ ویسے ہی پسینوں میں شرابور ہوں گے، اور یہ مصیبت جس کے گلے پڑے گی اس کا کیا حشر ہوگا۔
اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ زمین کے بھی آسمان کی طرح سات طبق ہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں بھی ہے: «﴿اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ .....﴾ [الطلاق: 12] » یعنی ”الله تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور اسی کی طرح سے سات زمین بھی پیدا فرمائیں۔
“ جو لوگ سات زمینوں کا انکار کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہفت اقلیم سات بر اعظم ہیں وہ غلطی پر ہیں، اور قرآن و حدیث کے خلاف وہ ظن و تخمین لگاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن زيد القرشي، أبو الأعورصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأنصاري
Newعبد الرحمن بن عمرو الأنصاري ← سعيد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥طلحة بن عبد الله القرشي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newطلحة بن عبد الله القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← طلحة بن عبد الله القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
Sunan Darmi Hadith 2642 in Urdu