🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب فى النهي عن المخابرة:
مخابرہ کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2652
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيُّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ". قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ؟. قَالَ: لَا أَقُولُ بِالْأَوَّلِ.
عبداللہ بن سائب نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مزارعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے (یعنی بٹائی پر زمین دینے سے) منع فرمایا۔ راوی نے امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: نہیں، میں پہلے قول کا قائل ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2658] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابواسحاق کا نام سلیمان بن ابی سلیمان ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1549] ، [شرح معاني الآثار 107/4] ، [البيهقي 133/6] ، [ابن حزم فى المحلی 182/8]
وضاحت: (تشریح حدیث 2651)
یہ حدیث مزارعت کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے، اور بظاہر ان احادیث کے معارض و مخالف ہے جن میں اس کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے، لیکن ابوداؤد میں سیدنا عروة رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ اشکال بھی رفع ہو جاتا ہے۔
چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: الله تعالیٰ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے۔
میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس حدیث کا مجھے ان سے زیادہ علم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو انصاری آئے، دونوں جھگڑ رہے تھے، یہ صورتِ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری یہ حالت ہے تو پھر کھیتی باڑی ٹھیکے پر نہ دیا کرو۔
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے حدیث کا پہلا حصہ نہیں سنا اور صرف «لا تكرو المزارع» سن لیا، اس لئے صحیح صورتِ حال ان کو سمجھ نہ آسکی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع تو نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے کسی ایک کا اپنی زمین کو فائدہ اٹھانے کے لئے دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کے بدلے میں معلوم و معین محصول لے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اس حدیث میں جو نہی ہے وہ قبل از اسلام رائج طریقہ کی ہے، نیز یہ بھی کہا گیا کہ یہ نہی تنزیہی پر محمول ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آغازِ اسلام میں مہاجرین ضرورت مند تھے، ان کے پاس زمین نہیں تھی۔
انصار کے پاس زمینیں کافی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ان کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا اسی طرح انصار کو اپنے بے وطن مہاجرین کو بطورِ احسان زمین دلانے کے لئے حکمت کے طور پر مزارعہ سے منع فرمایا تاکہ بغیر کسی محصول کے اپنے بھائیوں کو زمین عطا کر دیں۔
(واللہ اعلم)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثابت بن الضحاك الأنصاري، أبو زيدصحابي
👤←👥عبد الله بن المغفل المزني، أبو الوليد، أبو زياد
Newعبد الله بن المغفل المزني ← ثابت بن الضحاك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن السائب الكندي
Newعبد الله بن السائب الكندي ← عبد الله بن المغفل المزني
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عبد الله بن السائب الكندي
ثقة
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥محمد بن عيينة الفزاري، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عيينة الفزاري ← علي بن مسهر القرشي
مقبول
Sunan Darmi Hadith 2652 in Urdu