🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب فى النهي عن دخول المرأة الحمام:
عورت کو اس حمام میں جانے کی ممانعت جہاں مرد نہاتے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ يَسْتَفْتِينَهَا، فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ؟. قُلْنَ: نَعَمْ. قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". [إسناده منقطع أبو الجعد سالم لم يسمع من عائشة ولكن الحديث صحيح بالإسناد التالي. ويعلى هو: ابن عبيد]
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ. [إسناده صحيح وهو مكرر سابقه]
سالم بن ابی الجعد نے کہا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ حمص (شام) کی عورتیں حاضر ہوئیں، ان سے کچھ پوچھنا چاہتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے سوا کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے وہ پردہ پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے خبر دی اسرائیل سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابوالملیح سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع أبو الجعد سالم لم يسمع من عائشة ولكن الحديث صحيح بالإسناد التالي. ويعلى هو: ابن عبيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2693، 2694] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، کیونکہ سالم بن ابوالجعد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا، لیکن امام دارمی رحمہ اللہ نے دوسری سند میں سالم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ابوالملیح کا ذکر کیا ہے جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، لہٰذا سند صحیح ہے، اور ابوداؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں اسی طرح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4010] ، [ترمذي 2803] ، [ابن ماجه 3750] ، [أبويعلی 4390] ، [المستدرك للحاكم 289/4]
وضاحت: (تشریح حدیث 2686)
پہلے زمانے میں گھروں میں غسل خانوں کا رواج نہ تھا اور مرد و عورت باہر جا کر حمامات میں نہایا کرتے تھے، جہاں مالش بھی ہوتی، گرم پانی ملتا، اور اکثر عورت مرد یکجا ہو جاتے، عریانیت و فحاشی، فسق و فجور تک نوبت پہنچ جاتی۔
آج بھی ہندوستان و پاکستان میں بعض مقامات میں ایسے حمام پائے جاتے ہیں۔
کیونکہ اس میں اختلاط مرد و زن اور بے حیائی ہوتی ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حمامات میں جانے سے منع فرمایا۔
ہاں! مرد کے لئے کامل ستر پوشی کے ساتھ جہاں اختلاط نہ ہو نہانا جائز ہے، اور مرد کا مرد کے سامنے بھی کشفِ ستر جائز نہیں، چہ جائے کہ مرد عورت کے سامنے یا عورت مرد کے سامنے برہنہ ہو۔
یہ اللہ کے پردے کو چاک کرنا ہے، یعنی شرم و حیا، تقویٰ و پرہیزگاری اور عصمت و عفت کا پردہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے، کیونکہ عورت جب اپنے گھر کے علاوہ کہیں کپڑے اتارے گی تو اس کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا یقینی ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو المليح بن أسامة الهذلي، أبو المليح
Newأبو المليح بن أسامة الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← أبو المليح بن أسامة الهذلي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبيد الله بن موسى العبسي
صحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف
Newيعلى بن عبيد الطناقسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين
Sunan Darmi Hadith 2687 in Urdu