سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فِيمَنْ أَعْطَى ذَوِي الأَرْحَامِ دُونَ الْمَوَالِي:
ان علمائے کرام کا بیان جو غلام کی وراثت کا مالکان کے علاوہ صرف ذوی الارحام کو حق دار کہتے ہیں
حدیث نمبر: 3054
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ مَوْلَاةً لِإِبْرَاهِيمَ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ مَالًا، فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: "إِنَّ لَهَا ذَا قَرَابَةٍ".
ابوالہیثم سے مروی ہے کہ ابراہیم کی لونڈی فوت ہو گئی اور بہت مال چھوڑا میں نے ابراہیم کی توجہ اس کی میراث کی طرف مبذول کرائی تو انہوں نے کہا: اس کا قریبی رشتے دار موجود ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3054]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3064] »
اس روایت کی سند موقوف اور ابراہیم تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 182] ، [ابن أبى شيبه 274/11، 11212] ، [عبدالرزاق 16196]
اس روایت کی سند موقوف اور ابراہیم تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 182] ، [ابن أبى شيبه 274/11، 11212] ، [عبدالرزاق 16196]
وضاحت: (تشریح حدیث 3053)
یعنی وہی وارث ہوگا جو قریبی رشتے دار ہے، اور مالک آزاد کرنے والے کے لئے اس میں سے کوئی حق نہیں۔
ابراہیم رحمہ اللہ کی بھی رائے پیچھے گذر چکی ہے جس میں آزاد کرنے والے کو انہوں نے ما بقی من المال کا حق دار قرار دیا، وہی رائے صحیح ہے۔
یعنی وہی وارث ہوگا جو قریبی رشتے دار ہے، اور مالک آزاد کرنے والے کے لئے اس میں سے کوئی حق نہیں۔
ابراہیم رحمہ اللہ کی بھی رائے پیچھے گذر چکی ہے جس میں آزاد کرنے والے کو انہوں نے ما بقی من المال کا حق دار قرار دیا، وہی رائے صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
Sunan Darmi Hadith 3054 in Urdu