🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب الوصية للوارث:
وارث کے لئے وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3289
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "لَا يَجُوزُ إِقْرَارٌ لِوَارِثٍ، قَالَ: وقال الْحَسَنُ: أَحَقُّ مَا جَازَ عَلَيْهِ عِنْدَ مَوْتِهِ: أَوَّلَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ، وَآخِرَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا".
قاضی شریح نے کہا: کسی وارث کے لئے (وصیت کا) اقرار کرنا جائز نہیں ہے، انہوں نے کہا، اور حسن رحمہ اللہ نے کہا: موت کے وقت جائز ہونا زیادہ صحیح ہے جو آخرت کے ایام کا پہلا دن اور دنیا (سے جانے) کا آخری دن ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شريح وإلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3300] »
اس روایت کی سند قاضی شریح اور حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 787-791] ، [البيهقي: كتاب الاقرار، باب ماجاء فى اقرار المريض لوارثه 85/6] ۔ امام بخاری نے فرمایا: اور حسن رحمہ اللہ نے کہا: سب سے زیادہ اچھا یہ ہے کہ آدمی دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں صدقہ و خیرات کرے، یعنی ان کے نزدیک موت کے وقت صدقہ و خیرات کرنا افضل ہے۔


Sunan Darmi Hadith 3289 in Urdu