پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب إذا قال أحد غلامي حر ثم مات ولم يبين:
جب کوئی شخص اس طرح وصیت کرے: میرے غلاموں میں سے ایک میرے مرنے کے بعد آزاد ہے
حدیث نمبر: 3301
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"فِي رَجُلٍ قَالَ: أَحَدُ غُلَامَيَّ حُرٌّ ثُمَّ مَاتَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ، قَالَ: الْوَرَثَةُ بِمَنْزِلَتِهِ يُعْتِقُونَ أَيَّهُمَا أَحَبُّوا".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی یہ کہے: میرے دو غلاموں میں سے ایک آزاد ہے اور تعیین کرنے سے پہلے وہ مر جائے، تو شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اس وصیت کرنے والے کے وارث اس کی جگہ لیں گے اور ان دونوں میں سے جس کو اچھا جانیں آزاد کر دیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى الشعبي حسن من أجل أبي بكر بن عياش، [مكتبه الشامله نمبر: 3312] »
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک ابوبکر بن عياش کی وجہ سے حسن ہے۔ اور مطرف: ابن ظریف ہیں، اس سیاق سے یہ روایت کہیں نہیں ملی، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 11014، 11017] میں ہے۔ بعض روایات میں «أَحَبُّوْا» کی جگہ «خَيْرٌ» ہے۔
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک ابوبکر بن عياش کی وجہ سے حسن ہے۔ اور مطرف: ابن ظریف ہیں، اس سیاق سے یہ روایت کہیں نہیں ملی، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 11014، 11017] میں ہے۔ بعض روایات میں «أَحَبُّوْا» کی جگہ «خَيْرٌ» ہے۔
Sunan Darmi Hadith 3301 in Urdu