سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب تَعْجِيلِ عُقُوبَةِ مَنْ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فَلَمْ يُعَظِّمْهُ وَلَمْ يُوَقِّرْهُ:
حدیث رسول کی توہین و تحقیر پر فوری سزا کا بیان
حدیث نمبر: 459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ، ثُمَّ قَالَ: "لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا"، فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ سَمِعَ مَقَالَتَهُ، فَطَرَقَا أَهْلِيهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آئے تو معرّس میں نزول فرمایا، پھر حکم دیا: ”عورتوں کے پاس رات میں نہ جانا۔“ لیکن دوآدمی جنہوں نے آپ کا فرمان سنا تھا، نکل گئے اور اپنے گھر کا دروازہ جا کھٹکھٹایا اور ان میں سے دونوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی پایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «مرسل وإسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن حرملة، [مكتبه الشامله نمبر: 459] »
یہ روایت مرسل ہے، لیکن اس کی سند صحیح ہے، اور خرائطی نے اسے [مساوي الأخلاق 846] میں ذکر کیا ہے، اور حدیث «(لا تطرقوا النساء ليلا)» حاکم نے [مستدرك 7798] اور طبرانی نے [المعجم الكبير 245/11] اور ہیثمی نے [مجمع الزوائد 330/4] میں ذکر کی ہے۔
یہ روایت مرسل ہے، لیکن اس کی سند صحیح ہے، اور خرائطی نے اسے [مساوي الأخلاق 846] میں ذکر کیا ہے، اور حدیث «(لا تطرقوا النساء ليلا)» حاکم نے [مستدرك 7798] اور طبرانی نے [المعجم الكبير 245/11] اور ہیثمی نے [مجمع الزوائد 330/4] میں ذکر کی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 458)
یہ «﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا وہ دردناک عذاب میں مبتلا کر دیے جائیں۔
“ کی تفسیر اور عقوبتِ عاجلہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہ ماننے کی سزا ہے۔
یہ «﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا وہ دردناک عذاب میں مبتلا کر دیے جائیں۔
“ کی تفسیر اور عقوبتِ عاجلہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہ ماننے کی سزا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: مرسل وإسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن حرملة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي، أبو حرملة عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي ← سعيد بن المسيب القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي | ثقة مأمون | |
👤←👥عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، أبو المغيرة عبد القدوس بن الحجاج الخولاني ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 459 in Urdu
عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي ← سعيد بن المسيب القرشي