علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب الوضوء بالماء المستعمل:
استعمال شدہ پانی سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ، لَا أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ، فَعَقَلْتُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے کیونکہ میں بیمار تھا اور بیہوشی طاری ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا، لہٰذا مجھے ہوش آ گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 760] »
یہ صحیح متفق علیہ حدیث ہے۔ دیکھئے: [بخاري 194] ، [مسلم 1616] ، [مسند الموصلي 2018] ، [صحيح ابن حبان 1266] و [مسند الحميدي 1264]
یہ صحیح متفق علیہ حدیث ہے۔ دیکھئے: [بخاري 194] ، [مسلم 1616] ، [مسند الموصلي 2018] ، [صحيح ابن حبان 1266] و [مسند الحميدي 1264]
وضاحت: (تشریح حدیث 755)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر وضو کا مستعمل پانی ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وضو یا غسل کا مستعمل پانی پاک ہے، نیز اس حدیث سے بیمار پرسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور برکت بھی معلوم ہوئی کہ انہیں ہوش آ گیا۔
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر وضو کا مستعمل پانی ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وضو یا غسل کا مستعمل پانی پاک ہے، نیز اس حدیث سے بیمار پرسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور برکت بھی معلوم ہوئی کہ انہیں ہوش آ گیا۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 756 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري