🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 597 ترقیم شاملہ: -- 1353
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے، انہوں نے ابوعبید سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (آگے مذکورہ بالا روایت کے مانند روایت کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1353]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 597
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد
Newعطاء بن يزيد الجندعي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥حي بن أبي عمرو المذحجي، أبو عبيد
Newحي بن أبي عمرو المذحجي ← عطاء بن يزيد الجندعي
ثقة
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← حي بن أبي عمرو المذحجي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن زكريا الخلقاني، أبو زياد
Newإسماعيل بن زكريا الخلقاني ← سهيل بن أبي صالح السمان
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الصباح الدولابي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الدولابي ← إسماعيل بن زكريا الخلقاني
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1353 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1353
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں تسبیح تحمید اور تکبیر تینوں کلمات کا عدد 33،
33۔
بتلایا گیا ہے اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے ایک مرتبہ کلمہ توحید وتہلیل پڑھنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔
لیکن کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی روایات میں سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے اَللہُ اَکْبَر 34 دفعہ پڑھنے کی ترغیب دی گئی،
دونوں طرح ہی پڑھنا درست ہے۔
اور ظاہر ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت میں جس اجروثواب کو بیان کیا گیا ہے وہ دوسری صورت میں بیان نہیں کیا گیا۔

مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ (نماز کے خاتمہ پر یعنی سلام کے بعد ذکرودعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عملاً بھی ثابت ہے اور تعلیماً بھی اور اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ جو رواج ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد دعا میں بھی متقدی نماز کی طرح امام کے پابند رہتے ہیں حتیٰ کہ اگر کسی کو جلدی جانے کی ضرورت ہو تب بھی امام سے پہلے اٹھ جانا بُرا سمجھا جاتا ہے،
یہ بالکل بے اصل ہے بلکہ قابل اصلاح ہے امامت اور اقتداء کا رابطہ سلام پھیرنے پر ختم ہو جاتا ہے۔
اس لیے سلام کے بعد دعا میں امام کی اقتدا اور پابندی ضروری نہیں،
چاہے تو مختصراً دعا کر کے امام سے پہلے اٹھ جائے اور چاہے تو اپنے ذوق اور کیفیت کے مطابق دیر تک دعا کرتا رہے۔
(معارف الحدیث: 3 /318)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1353]

Sahih Muslim Hadith 1353 in Urdu