🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الصَّلاَةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ:
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 697 ترقیم شاملہ: -- 1602
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے (مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع) بضاع نامی پہاڑ پر اذان کہی۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور (ابواسامہ نے) کہا: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِكُمْ» اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوبارہ «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کہنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1602]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ضجنان پہاڑ پر اذان کہی، پھر اوپر والی بات بیان کی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: «أَلَا صَلُّوْا فِي رِحَالِكُمْ» ”خبردار! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔“ اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوبارہ «أَلَا صَلُّوْا فِي رِحَالِكُمْ» ”خبردار! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔“ کہنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1602]
ترقیم فوادعبدالباقی: 697
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1602 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1602
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے عذر اور مجبوری کی بنا پر اگر مسجد میں پہنچنا مشکل ہو تو نماز گھروں میں پڑھنا جائز ہے۔
ایسی صورت میں نماز باجماعت ضروری نہیں ہے۔
2۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پہلے اذان عام دنوں کے مطابق دیتے تھے تاکہ جو لوگ مسجد میں آ سکتے ہوں آ جائیں اور اذان کے آخر میں رخصت کے کلمات کہہ دیتے تھے تاکہ جو کمزور بوڑھے اور مریض ہیں انہیں مسجد میں نہ آنے کی اجازت مل جائے۔
اس لیے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ کلمات اذان کے آخر میں کہنا بہتر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1602]

Sahih Muslim Hadith 1602 in Urdu