یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب بيان تحريم إيذاء الجار:
باب: پڑوسی کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 46 ترقیم شاملہ: -- 172
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 172]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہ ہوں وہ جنّت میں نہیں جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 46
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13989)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 172 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 172
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
بَوَائِقَ:
بَائِقَةٌ کی جمع ہے،
شر،
فساد و بگاڑ،
تکلیف دہ اور ہلاکت وتباہی کا باعث چیز،
آفت۔
فوائد ومسائل:
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ایسا شریفانہ برتاؤ کہ ان کو ہماری طرف سے پورا اطمینان وتسکین رہے،
اور ہماری جانب سے کسی ظلم وزیادتی اورشرارت وبدسلوکی کا اندیشہ نہ رہے،
یہ ایمان کے ان شرائط اور لوازم میں سے ہے،
جن کے بغیر ایمان،
گویا کالعدم ہے،
اصل مقصد شریفانہ برتاؤ پر آمادہ کرناہے۔
مفردات الحدیث:
:
بَوَائِقَ:
بَائِقَةٌ کی جمع ہے،
شر،
فساد و بگاڑ،
تکلیف دہ اور ہلاکت وتباہی کا باعث چیز،
آفت۔
فوائد ومسائل:
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ایسا شریفانہ برتاؤ کہ ان کو ہماری طرف سے پورا اطمینان وتسکین رہے،
اور ہماری جانب سے کسی ظلم وزیادتی اورشرارت وبدسلوکی کا اندیشہ نہ رہے،
یہ ایمان کے ان شرائط اور لوازم میں سے ہے،
جن کے بغیر ایمان،
گویا کالعدم ہے،
اصل مقصد شریفانہ برتاؤ پر آمادہ کرناہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 172]
Sahih Muslim Hadith 172 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي