🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب افضل الصلاة طول القنوت:
باب: افضل نماز وہ ہے جس کا قیام لمبا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 756 ترقیم شاملہ: -- 1769
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الأَعْمَشِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: قیام کا لمبا ہونا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1769]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لمبا قیام یعنی جس نماز میں قیام طویل ہو۔ ابوبکر نے «حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ» کی جگہ «عَنِ الْأَعْمَشِ» کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← محمد بن خازم الأعمى
صحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1768
أفضل الصلاة طول القنوت
صحيح مسلم
1769
أي الصلاة أفضل قال طول القنوت
جامع الترمذي
387
أي الصلاة أفضل قال طول القنوت
سنن ابن ماجه
1421
أي الصلاة أفضل قال طول القنوت
المعجم الصغير للطبراني
40
أى الإسلام أفضل ؟ ، قال : من سلم المسلمون من لسانه ويده ، قيل : ف أى الهجرة أفضل ؟ ، قال : أن تهجر ما كره ربك ، قيل : ف أى الجهاد أفضل ؟ ، قال : من عقر جواده وأهريق دمه
مسندالحميدي
1313
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1769 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1769
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وتر میں دعائے قنوت کی کوئی روایت مصنف کی شرط پر نہیں ہے اس لیے امام صاحب نے دعائے قنوت کا ذکر نہیں کیا،
ائمہ اربعہ کا مسلک یہ ہے کہ اما م مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وتر میں قنوت نہیں ہے۔
باقی تینوں ائمہ کےنزدیک قنوت وتر ہے۔
اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا سال اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہی ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کے آخری نصف میں،
کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان کے آخری نصف میں ہی وتر کے اندر قنوت کرتے تھے جب وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق نماز تراویح پڑھانے لگے تھے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قنوت کا موقع اور محل رکوع کے بعد ہے۔
کیونکہ باقی نمازوں میں قنوت رکوع کے بعد کیا جاتا ہے اور احناف کے نزدیک قنوت رکوع سے پہلے ہے اگر تمام احادیث کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے وتر میں دونوں کی گنجائش ہے رکوع سے پہلے پڑھ لے یا رکوع کے بعد۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1769]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 387
نماز میں دیر تک قیام کرنے کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 387]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طول قیام کثرت رکوع و سجود سے افضل ہے،
علماء کی ایک جماعت جس میں امام شافعی بھی شامل ہیں اسی طرف گئی ہے اور یہی حق ہے،
رکوع اور سجود کی فضیلت میں جو حدیثیں وارد ہیں وہ اس کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ان دونوں کی فضیلت سے طول قیام پر ان کی افضلیت لازم نہیں آتی۔
واضح رہے کہ یہ نفل نماز سے متعلق ہے کیونکہ ایک تو فرض کی رکعتیں متعین ہیں،
دوسرے امام کو حکم ہے کہ ہلکی نماز پڑھائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 387]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1313
1313- سیدنا جابررضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سب سے افضل نماز وہ ہے، جس میں قیام طویل ہو اور سب سے افضل جہاد وہ ہے، جس میں خون بہا دیا جائے اور گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور سب سے افضل صدقہ وہ ہے، جوغریب شخص کوشش سے کرے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کہ جو صدقہ دیا جائے، تو اس کے بعد آدمی خوشحال رہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1313]
فائدہ:
اس حدیث میں طویل قرأت اور شہادت کی فضیلت کا بیان ہے، اور وہ صدقہ جو کوئی مسکین محنت مزدوری کرے اور اس معمولی سے معاوضے میں سے جو کچھ اللہ کے راستے میں دے دے، اس کی ایک مٹھی صدقہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس کو احد پہاڑ بنا دیں گے، اور امیر کا کروڑوں روپے کا صدقہ جو اس نے غلط نیت سے دیا ہوگا، اس سے مسکین کا صدقہ بڑھ جائے گا، جو بھی میسر ہو، چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، صدقہ کر دینا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1311]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1768
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بہترین نماز وہ ہے جس میں قنوت لمبا ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1768]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
قنوت:
نماز،
قیام،
خشوع و خضوع،
عجز و فروتنی،
سکوت و خاموشی،
دعا اور اطاعت و فرمانبرداری،
سب معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور نماز میں یہ تمام معانی موجود ہیں اور یہاں بالاتفاق اس کا معنی قیام ہے۔
یعنی قراءت طویل کرنا،
کیونکہ لمبی قراءت کے بغیر قیام لمبا نہیں ہو سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1768]

Sahih Muslim Hadith 1769 in Urdu