علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب النهى عن الرواية عن الضعفاء والاحتياط في تحملها
باب: ضعیف راویوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت لینے میں احتیاط برتنا۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 21
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ.فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي، أُحَدِّثُكَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما (نے یہ رویہ رکھا کہ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ کہنے لگا: اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا (معاملہ) ہے، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری (بیان کردہ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے، پھر جب لوگوں نے (بلا تمیز) ہر مشکل اور آسان پر سواری (شروع) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس (حدیث) کے جسے ہم جانتے تھے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 21]
امام مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، بشیر عددی رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور حدیثیں بیان کرتے ہوئے: «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم »، «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم » کہنے لگا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی احادیث پر کان نہ دھرا، اور نہ اس کی طرف توجہ کی تو اس نے کہا: اے ابن عباس! کیا وجہ ہے کہ آپ میری احادیث سنتے ہی نہیں ہیں، جب کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”کبھی یہ تھا، جب ہم کسی آدمی کو یہ کہتے سنتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو ہماری آنکھیں اس کی طرف لپکتیں (فوراً اس کی طرف اٹھتیں)، اور ہم اس کی باتوں پر کان لگاتے، مگر جب لوگوں نے دشوار اور نرم (ضعیف اور صحیح) ہر راستہ پر چلنا شروع کر دیا، تو ہم لوگوں سے وہ حدیث لیتے ہیں جس کو ہم پہچانتے ہیں، جن کی صحت کا ہمیں علم ہے، یا جن کو ہم صحیح خیال کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 21]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (6419)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
Sahih Muslim Hadith 21 in Urdu