🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب فضل الصلاة على الجنازة واتباعها:
باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2195
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد عامر سے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیراط ہیں، ہر قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے۔‘ (یہ بات سن کر) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (تاکہ) وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتائیں کہ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کیا کہا۔ (اس دوران میں) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھر لی اور ان کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیغام رساں ان کے پاس واپس آگیا، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: یقیناً ہم نے بہت قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2195]
داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد عامر بن سعد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مقصورہ والے خباب آ کر کہنے لگے: اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! کیا آپ وہ بات سنتے ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص جنازہ کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا، حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کو اجر کے دو قیراط ملیں گے، ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے، اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اسے ایک احد کے برابر اجر ملے گا۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں پوچھیں اور پھر انہیں واپس آ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے آگاہ کریں۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے مٹھی بھر لی اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے حتیٰ کہ فرستادہ نے آ کر بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کر دی ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو کنکریاں ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: ہم نے بہت سارے قیراط ضائع کر دیے۔ (ان کے ثواب سے محروم ہو گئے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥داود بن عامر الزهري
Newداود بن عامر الزهري ← عامر بن سعد القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن قسيط الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن قسيط الليثي ← داود بن عامر الزهري
ثقة
👤←👥حميد بن أبي المخارق المدني، أبو صخر، أبو مودود
Newحميد بن أبي المخارق المدني ← يزيد بن قسيط الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة
Newحيوة بن شريح التجيبي ← حميد بن أبي المخارق المدني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← حيوة بن شريح التجيبي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1323
من تبع جنازة فله قيراط
صحيح مسلم
2194
من تبع جنازة فله قيراط من الأجر
صحيح مسلم
2195
من خرج مع جنازة من بيتها وصلى عليها ثم تبعها حتى تدفن كان له قيراطان من أجر كل قيراط مثل أحد من صلى عليها ثم رجع كان له من الأجر مثل أحد
جامع الترمذي
1040
من صلى على جنازة فله قيراط ومن تبعها حتى يقضى دفنها فله قيراطان أحدهما أو أصغرهما مثل أحد
سنن أبي داود
3168
من تبع جنازة فصلى عليها فله قيراط ومن تبعها حتى يفرغ منها فله قيراطان أصغرهما مثل أحد أو أحدهما مثل أحد
المعجم الصغير للطبراني
349
من خرج مع جنازة حتى تدفن كان له من الأجر قيراطان ، فقيل : مثل أى شيء القيراط ؟ ، قال : مثل أحد
مسندالحميدي
1051
من صلى على جنازة كان له قيراط، ومن اتبعها حتى يفرغ من أمرها كان له قيراطان أحدهما مثل أحد
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2195 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2195
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے مقصورہ سےمراد مسجد کے اندر چھوٹا کمرہ ہے جس میں گورنر یا اسکے حاشیہ کھڑا ہوتے اور خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا منتظم تھا۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علم کی وسعت وجامعیت اور کمال پراعتماد تھا۔
اس لیے اگر انہیں کسی مسئلہ یا حدیث کے بارے میں شک ہوتا تو وہ فوراً ان سے رجوع کر کے اپنی تسلی کر لیتے۔

جنازہ میں شرکت کے لیے میت کےگھر جانا چاہیے تاکہ ثواب پورا پورا حاصل کیا جا سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2195]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3168
جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3168]
فوائد ومسائل:
دنیا میں قیراط ایک معمولی وزن ہے۔
یعنی 2125۔
یا 2475۔
گرام۔
مگر ایمان تقویٰ اور اپنے مسلمان بھائی کا حق ادا کرنے کی برکت سے اللہ عزوجل اس عمل کو پہاڑوں کے برابر دے گا۔
اور ایسا ہوجانا کوئی محال نہیں ہے۔
اور ہر صاحب ایمان کو ایسے اعمال خیر کا حریص ہونا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3168]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1051
1051- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو شخص جنازے کے دفن ہونے تک ساتھ رہتا ہے اسے دوقیراط ثواب ملتا ہے، جن میں سے ایک قیراط حد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1051]
فائدہ:
اس حدیث میں نماز جنازہ کے ساتھ شریک ہونے کا اجر بیان ہوا ہے۔ بطور فائدہ عرض ہے کہ بعض لوگ جنازے کے ساتھ راستے میں ملتے ہیں اور بعض پہلے ہی قبرستان پہنچ جاتے ہیں، جبکہ قیراط کا ثواب اس شخص کو ملے گا جو میت کے گھر سے جنازہ کے ساتھ جاتا ہے، یہ وضاحت صحیح مسلم (945) میں ہے
اللہ تعالیٰ استاذ محترم شیخ حافظ محمد شریف ﷾کو جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے ناچیز پرمرکز التربية الاسلامیۃ میں بہت زیادہ محنت کی، دوران تدریس یہ اضافہ انہوں نے لکھوایا تھا، اور اس وقت [احكام الجنائز لالباني ص: 68] کا حوالہ دیا تھا، فـجـزاها الله خيرا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1050]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2194
نافع بیان کرتے ہیں،ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو جنازہ کے ساتھ (نماز تک) رہااسے ایک قیراط کے برابر اجر ملے گا۔ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں بہت احادیث سناتے ہیں اس کے بعد انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پیغام بھیج کر ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2194]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو متہم نہیں سمجھتے تھے۔
ان کا خیال تھا ایک معمولی کام پر اتنا اجر ہمیں اس کا پتہ کیوں نہیں چل سکا۔
کہیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھول چوک تو نہیں ہو گئی۔
اس لیے جب ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس قول کا پتہ چلا تو وہ خود انہیں پکڑ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے گئے اور انہیں براہ راست حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنوایا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ:
(كنت ألزمنا لرسول الله - صلى الله عليه وسلم- وأعلمنا بحديثه)
آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے اور آپ ہم سے زیادہ آپ کی احادیث جاننے والے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2194]

Sahih Muslim Hadith 2195 in Urdu