صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب بيان كون الإيمان بالله تعالى افضل الاعمال:
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 84 ترقیم شاملہ: -- 250
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔“ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 250]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مالکوں کو زیادہ پسندیدہ اور قیمت میں زیادہ ہو۔“ میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کرو یا اناڑی کا کام کر دو۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں کوئی کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر روک لو (ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ)، یہ بھی تیرا اپنے اوپر صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 84
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العتق باب: اى الرقاب افضل برقم (2382) والنسائي في ((المجتبى)) 19/6 في الجهاد، باب: ما يعدل الجهاد في سبيل الله مختصراً۔ وابن ماجه في ((سننه)) في العتق، باب: العتق برقم (2523) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12004)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥سعد الغفاري، أبو مراوح سعد الغفاري ← أبو ذر الغفاري | صحابي صغير | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← سعد الغفاري | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥خلف بن هشام البزار، أبو محمد خلف بن هشام البزار ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← خلف بن هشام البزار | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 250 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 250
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
حَجٌّ مَبْرُورٌ:
جس میں کسی گناہ کی آمیزش نہ ہو۔
صحیح طریقہ سے ادا کیا گیا ہو،
اس لیے اللہ کے ہاں مقبول ہو۔
(2)
أَنْفَس:
بہت عمدہ اور نفیس ہونے کی بنا پر مرغوب اور پسندیدہ۔
(3)
صَانِعٌ:
کسی کام میں مہارت رکھنے والا،
کاریگر۔
(4)
أَخْرَق:
اناڑی،
جسے کسی کام کا سلیقہ نہ ہو،
پھوہڑ۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
حَجٌّ مَبْرُورٌ:
جس میں کسی گناہ کی آمیزش نہ ہو۔
صحیح طریقہ سے ادا کیا گیا ہو،
اس لیے اللہ کے ہاں مقبول ہو۔
(2)
أَنْفَس:
بہت عمدہ اور نفیس ہونے کی بنا پر مرغوب اور پسندیدہ۔
(3)
صَانِعٌ:
کسی کام میں مہارت رکھنے والا،
کاریگر۔
(4)
أَخْرَق:
اناڑی،
جسے کسی کام کا سلیقہ نہ ہو،
پھوہڑ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 250]
Sahih Muslim Hadith 250 in Urdu
سعد الغفاري ← أبو ذر الغفاري