صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب في ان الإسناد من الدين وان الرواية لا تكون إلا عن الثقات وان جرح الرواة بما هو فيهم جائز بل واجب وانه ليس من الغيبة المحرمة بل من الذب عن الشريعة المكرمة
باب: حدیث کی سند بیان کرنا ضروری ہے، اور وہ دین میں داخل ہے، اور روایت صرف معتبر راویوں سے ہو گی، اور راویوں پر تنقید کرنا جائز ہے بلکہ واجب ہے،یہ غیبت محرمہ نہیں ہے، بلکہ وہ شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 30
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الأَصْمَعِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَدْرَكْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً، كُلُّهُمْ مَأْمُونٌ، مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمُ الْحَدِيثُ، يُقَالُ: لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ
(عبدالرحمن) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ میں سو (اہل علم) سے ملا جو (دین میں تو) محفوظ و مامون تھے (لیکن) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں، کہا جاتا تھا یہ اس (علم) کے اہل نہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 30]
امام ابو زناد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میری مدینہ میں ایک سو راویوں سے ملاقات ہوئی، سب کے سب دین دار تھے، لیکن ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی، کہا جاتا تھا: وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 30]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18899)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 30 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 30
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض لوگ عملی طور پر بہت دین دار ہوتے ہیں،
لیکن احادیث کے اخذ روایت میں حزم واحتیاط کہ ملحوظ نہیں رکھتے،
ہر قسم کی روایات لے کر آگے بیان کرنا شروع کر دیتے۔
صحیح وسقیم کی روایات میں امتیاز نہیں کر سکتے،
اسی لیے ان کے روایت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
فوائد ومسائل:
بعض لوگ عملی طور پر بہت دین دار ہوتے ہیں،
لیکن احادیث کے اخذ روایت میں حزم واحتیاط کہ ملحوظ نہیں رکھتے،
ہر قسم کی روایات لے کر آگے بیان کرنا شروع کر دیتے۔
صحیح وسقیم کی روایات میں امتیاز نہیں کر سکتے،
اسی لیے ان کے روایت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 30]
Sahih Muslim Hadith 30 in Urdu