پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
83. باب النهي عن حمل السلاح بمكة بلا حاجة:
باب: مکہ مکرمہ میں بلاضرورت ہتھیار اٹھانے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1356 ترقیم شاملہ: -- 3307
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا ابْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاحَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھانا حلال نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3307]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تم میں سے کسی کے لیے روا نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1356
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3307 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3307
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمہور علماء امت کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ اورحدود حرم میں کسی مسلمان کو دوسرے کے خلاف ہتھیاراٹھانا اور اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے،
اگراس کے ہاتھ میں لینے سے کسی کو اذیت اور زخم لگنے کا خطرہ نہ ہو تو محض ہتھیار ہاتھ میں لے لینا نا جائز نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
جمہور علماء امت کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ اورحدود حرم میں کسی مسلمان کو دوسرے کے خلاف ہتھیاراٹھانا اور اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے،
اگراس کے ہاتھ میں لینے سے کسی کو اذیت اور زخم لگنے کا خطرہ نہ ہو تو محض ہتھیار ہاتھ میں لے لینا نا جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3307]
Sahih Muslim Hadith 3307 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري