🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب رفع الامانة والإيمان من بعض القلوب وعرض الفتن على القلوب:
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قَوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ، الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا، لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ "، قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ: أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا، بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ، قَالَ عُمَرُ: أَكَسْرًا، لَا أَبَا لَكَ، فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ؟ قُلْتُ: لَا، بَلْ يُكْسَرُ، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، قَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا مَالِكٍ، مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا؟ قَالَ: مَنْكُوسًا.
ابوخالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے یہ ذکر سنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل، مال اور پڑوسی (کے بارے) میں پیش آتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس فتنے (اہل، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنے کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے، تیرا باپ اللہ ہی کا (بندہ) ہے (کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا۔) حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: فتنے دلوں پر ڈالے جائیں گے، چٹائی (کی بنتی) کی طرح تنکا تنکا (ایک ایک) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا (اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا)، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل میں ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے: (ایک دل) سفید، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند (جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے گا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ (دل) لبریز ہو گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جا سکے۔ میں نے کہا: نہیں! بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ اور میں نے انہیں بتا دیا: وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا۔ (حذیفہ نے کہا: میں نے انہیں) حدیث (سنائی کوئی)، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں۔ ابوخالد نے کہا: میں نے سعد سے پوچھا: ابومالک! «أسود مرباداً» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کالے رنگ میں شدید سفیدی (مٹیالے رنگ) کہا: میں نے پوچھا: «الكوز مجخياً» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا کیا ہوا کوزہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 369]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے تو انہوں (عمر رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کا ذکر سنا ہے؟ تو کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے سنا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اپنے اہل، مال اور پڑوسی کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس فتنہ (آزمائش و ابتلا) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنہ کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح موجزن ہو گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے، تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا باپ اللہ کا کرشمہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنے لوگوں کے دلوں پر چٹائی کے تنکوں کی طرح ایک ایک کر کے پیش کیے جائیں گے، تو جس دل میں وہ پیوستہ ہو گئے اس میں سیاہ نقطہ پڑ جائے گا، اور جس دل نے ان کو قبول نہ کیا، اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو قسم کے ہو جائیں گے۔ چٹان کی طرح سفید، تو جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ایسے دلوں کو کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرے اوندھے لوٹے کی طرح خاکی سیاہ جو نہ کسی معروف کو پہچانیں گے اور نہ کسی منکر کا انکار کریں گے، مگر جس چیز سے ان کی خواہش پوری ہو۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے جو جلد ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا توڑ دیا جائے گا؟ تیرا باپ نہ ہو! اگر وہ کھول دیا جائے تو بند کیا جا سکتا تھا۔ میں نے کہا: کھولا نہیں، توڑا جائے گا۔ اور میں نے کہا: وہ دروازہ ایک آدمی ہے جو قتل کیا جائے گا یا مرے گا۔ صاف بات ہے پہیلی یا معمہ نہیں ہے۔ ابو خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعد رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو مالک! «أَسْوَدُ مُرْبَادًّا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سیاہی میں بہت سفیدی۔ میں نے پوچھا: «الْكُوزُ مُجَخِّيًا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا ہوا (پیالہ)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3319)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي
ثقة
👤←👥سعد بن طارق الأشجعي، أبو مالك
Newسعد بن طارق الأشجعي ← ربعي بن حراش العبسي
ثقة
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← سعد بن طارق الأشجعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة حافظ
Sahih Muslim Hadith 369 in Urdu