صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلاَةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلإِ وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ:
باب: جو پانی جنگل میں ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا حرام ہے جب لوگوں کو اس کو احتیاج ہو گھاس چرانے میں اور اس کا روکنا منع ہے اور نر کدانے کی اجرت لینا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1565 ترقیم شاملہ: -- 4005
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ "، فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی جفتی فروخت کرنے، کاشتکاری کے لیے پانی اور زمین کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساری باتوں سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4005]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اونٹ کی جفتی کو بیچنے، پانی فروخت کرنے اور زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے“، ان چیزوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4005]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4005 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4005
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ائمہ ثلاثہ (امام ابو حنیفہ،
امام احمد،
امام شافعی اور جمہور کے نزدیک نر کو جفتی کے لیے اجرت اور کرایہ دینا جائز نہیں ہے لیکن امام مالک کے نزدیک یہ نص تحریمی (حرمت کے لیے نہیں ہے)
بلکہ نص تنزیہی ہے،
یعنی اچھا اور پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے،
بٹائی کا مسئلہ پیچھے گزر چکا ہے،
معلوم ہوتا ہے،
نر کی جفتی کو آمدن کا ذریعہ بنانا جائز نہیں ہے،
اگر وہ نر کو چارہ ڈالنے یا خوراک مہیا کرنے کےلیے کہتا ہے تاکہ بار بار جفتی کرنے سے جو کمزوری پیدا ہوتی ہے،
اس کا ازالہ ہو سکے تو یہ بیچنا نہیں ہو گا۔
فوائد ومسائل:
ائمہ ثلاثہ (امام ابو حنیفہ،
امام احمد،
امام شافعی اور جمہور کے نزدیک نر کو جفتی کے لیے اجرت اور کرایہ دینا جائز نہیں ہے لیکن امام مالک کے نزدیک یہ نص تحریمی (حرمت کے لیے نہیں ہے)
بلکہ نص تنزیہی ہے،
یعنی اچھا اور پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے،
بٹائی کا مسئلہ پیچھے گزر چکا ہے،
معلوم ہوتا ہے،
نر کی جفتی کو آمدن کا ذریعہ بنانا جائز نہیں ہے،
اگر وہ نر کو چارہ ڈالنے یا خوراک مہیا کرنے کےلیے کہتا ہے تاکہ بار بار جفتی کرنے سے جو کمزوری پیدا ہوتی ہے،
اس کا ازالہ ہو سکے تو یہ بیچنا نہیں ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4005]
Sahih Muslim Hadith 4005 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري