صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الامر بقتل الكلاب وبيان نسخه وبيان تحريم اقتنائها إلا لصيد او زرع او ماشية ونحو ذلك.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4027
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ "، قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ، وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ.
حنظلہ بن ابی سفیان (اسود بن عبدالرحمٰن بن صفوان بن امیہ) نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا پالا اس کے عمل سے ہر دو روز قیراط کم ہوں گے۔“ سالم نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”یا کھیتی کے کتے (کے سوا۔)“ اور وہ (خود) کھیتی کے مالک تھے۔ (اس لیے انہیں یہ بات یاد تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4027]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ (عبداللہ رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، سوائے شکاری اور مویشیوں کے کتے کے، اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ حضرت سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس پر یہ اضافہ کرتے تھے: ”یا کھیتی کا کتا،“ اور وہ کھیتی کے مالک تھے، (اس لیے اس مسئلہ سے خوب آگاہ تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 4027 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← أبو هريرة الدوسي