🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ:
باب: کافر کفر کی حالت میں کوئی نذر مانے پھر مسلمان ہو جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1656 ترقیم شاملہ: -- 4293
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وقَالَ حَفْصٌ: مِنْ بَيْنِهِمْ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَالثَّقَفِيُّ، فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِكَافُ لَيْلَةٍ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقَالَ: جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِكْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ.
ابواسامہ، عبدالوہاب ثقفی، حفص بن غیاث اور شعبہ، ان سب نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، ان میں سے حفص نے کہا: (یہ حدیث) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ابواسامہ اور ثقفی کی حدیث میں ایک رات اعتکاف کرنے کا تذکرہ ہے اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: دن کے اعتکاف کی نذر مانی۔ حفص کی حدیث میں دن یا رات کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأيمان/حدیث: 4293]
امام صاحب اپنے چھ اساتذہ کی چار سندوں سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، ان راویوں میں سے حفص اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، اور باقی راوی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کرتے ہیں، ابو اسامہ اور ثقفی کی روایت میں رات کے اعتکاف کا تذکرہ ہے، اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ میں نے اپنے اوپر ایک دن کا اعتکاف لازم کیا تھا، اور حفص کی حدیث میں دن یا رات کسی کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأيمان/حدیث: 4293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1656
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو العتكي، أبو جعفر
Newمحمد بن عمرو العتكي ← محمد بن جعفر الهذلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← محمد بن عمرو العتكي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4293 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4293
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نذرت في الجاهلية:
امام کرمانی کے نزدیک،
اس سے مراد جاہلیت کا دور یعنی بعثت نبوی سے پہلے کا زمانہ مراد ہے،
اور جمہور شارحین کے نزدیک،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور کفر و شرک مراد ہے،
کہ جبکہ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے،
اوف بنذرك:
اپنی نذر پوری کرو،
آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کفر کی حالت میں مانی گئی نذر کے پورا کرنے کا حکم دیا،
ائمہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہے،
حالت کفر میں مانی ہوئی مانی ہوئی نذر کا پورا کرنا فرض ہے یا مستحب،
طاؤس،
قتادہ،
حسن بصری،
امام شافعی،
امام احمد،
ابو ثور،
اسحاق،
ابن حزم،
ابن جریر طبری،
اور بعض مالکیہ کے نزدیک،
اسلام لانے کے بعد،
حالت کفر کی جائز نذر پورا کرنا فرض ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک کافر کی نذر درست نہیں ہے،
کیونکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا جوئی اور خوشنودی نہیں ہے،
حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے،
کافر و مشرک بھی اللہ کا تقرب اور رضا چاہتے ہیں،
بلکہ وہ تو بتوں کی عبادت بھی بزعم خویش اللہ کے تقرب کے حصول کے لیے کرتے تھے:
﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ﴾ (سورة الزمر:
آيت 3)
امام مالک،
ابو حنیفہ،
ابراہیم نخعی،
ثوری اور بعض شوافع کے نزدیک کافر پر اسلام لانے کے بعد اپنی نذر پوری کرنا لازم نہیں ہے،
ہاں مستحب اور پسندیدہ ہے،
امام شافعی اور امام احمد کا ایک قول یہی ہے۔
(فتح الباری،
ج 11،
ص 709)
اعتكاف ليلة یا اعتكاف يوم:
شوافع نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے،
جس میں رات کے اعتکاف کا تذکرہ ہے،
یہ استدلال کیا ہے کہ اعتکاف صرف رات کا بھی ہو سکتا ہے،
اس لیے اس کے لیے روزہ شرط نہیں ہے،
کیونکہ روزہ دن کے وقت ہوتا ہے،
اور دوسری حدیث میں دن کے اعتکاف کا تذکرہ ہے،
اس سے احناف نے یہ استدلال کیا ہے،
کہ رات میں دن شامل ہے اور دن میں رات داخل ہے،
اس لیے اس سے مراد،
صرف رات یا صرف دن نہیں ہے،
دن رات دونوں ہی مراد ہیں،
اس لیے اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4293]

Sahih Muslim Hadith 4293 in Urdu