🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ:
باب: جو عہد توڑ ڈالے اس کو مارنا درست ہے اور قلعہ والوں کو کسی عادل شخص کے فیصلے پر اتارنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1769 ترقیم شاملہ: -- 4601
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ: أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ، وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ: أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ.
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: اسی رات سے خوب بہنے لگا اور مسلسل بہتا رہا حتی کہ وہ وفات پا گئے۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا، کہا: یہی وقت ہے جب (ایک کافر) شاعر کہتا ہے: اے سعد! بنو معاذ کے (گھرانے کے) سعد! وہ کیا تھا جو بنو قریظہ نے کیا اور (وہ کیا تھا جو) بنونضیر نے کیا؟ تمہاری زندگی کی قسم! بنو معاذ کا سعد، جس صبح ان لوگوں نے سزا برداشت کی، خوب صبر کرنے والا تھا۔ تم (اوس کے) لوگوں نے اپنی ہڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ باقی نہ بچا تھا جبکہ قوم (بنو خزرج) کی ہانڈیاں گرم تھیں، ابل رہی تھیں (انہوں نے اپنے حلیف بنو نضیر کا ساتھ دیا تھا۔) ایک کریم انسان ابوحباب (رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول) نے کہا تھا: (بنو) قینقاع! مقیم رہو، مت جاو۔ وہ لوگ اپنے شہر میں بہت وزن رکھتے تھے (باوقعت تھے) جس طرح جبلِ میطان کی چٹانیں بہت وزن رکھتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4601]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے کہ اس رات زخم بہنے لگا اور وہ مسلسل بہتا رہا حتیٰ کہ وہ وفات پاگئے اور اس وقت ایک کافر شاعر (جبل بن جوال ثعلبی) نے یہ شعر کہے: اے سعد! سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سنو، قریظہ اور نضیر نے کیا کیا، تمہاری زندگی کی قسم! سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جس صبح ان لوگوں نے مصائب برداشت کیے، وہ بہت صابر تھے، تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی جبکہ قومِ خزرج کی ہانڈی گرم ہے اور جوش مار رہی ہے، معزز شخص ابو حباب نے کہا تھا، بنو قینقاع ٹھہرے رہو، مت جاؤ، حالانکہ بنو قریظہ اپنے علاقے میں جمے ہوئے تھے، جس طرح میطان پہاڑ کے پتھر بھاری ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4601]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1769
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكرثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن الحسن الحضرمي، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسن الحضرمي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4601 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4601
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے چونکہ اپنے حلیفوں کی رعایت کرتے ہوئے انہیں امن و سکون کے ساتھ،
بنو قینقاع کی طرح نکلنے کا موقعہ فراہم نہیں کیا،
جبکہ ابو حباب عبداللہ بن ابی منافق نے اپنے حلیفوں کو بے جا تحفظ فراہم کر کے نکلنے کا موقع دیا،
اس لیے یہ کافر شاعر جو بعد میں مسلمان ہو گیا،
حضرت سعد کی مذمت کرتا ہے تو نے اپنے حلیفوں کو جو مضبوط اور مستحکم قلعوں کے مالک تھے،
تحفظ فراہم نہیں کیا،
اپنے آپ کو مضبوط حلیفوں کی نصرت و حمایت سے محروم کر لیا اور اپنی ہانڈی خالی کر لی،
جبکہ خزرج کے سردار،
عبداللہ بن ابی نے اپنے حلیفوں کو بچا کر ان کی نصرت و حمایت برقرار رکھی،
اس لیے ان کی ہنڈیا گرم ہے،
یعنی حلیفوں کی نصرت و مدد حاصل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4601]

Sahih Muslim Hadith 4601 in Urdu