🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم إلى ملوك الكفار يدعوهم إلى الله عز وجل:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کافر بادشاہوں کی طرف اسلام کی دعوت میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1774 ترقیم شاملہ: -- 4611
وحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
خالد بن قیس نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا: یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4611]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں بھی آخری جملہ کہ یہ وہ نجاشی نہیں ہے، جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1774
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥خالد بن قيس الأزدي
Newخالد بن قيس الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن نصر الحداني، أبو الحسن
Newعلي بن نصر الحداني ← خالد بن قيس الأزدي
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← علي بن نصر الحداني
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4611 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4611
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس دور میں مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے القاب مختلف ہوتے تھے،
ایرانیوں کے بادشاہ کو کسریٰ،
روم کے بادشاہ کو قیصر،
حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی،
ترکوں کے بادشاہ کو خاقان،
قبطیوں کے بادشاہ کو فرعون،
حمیروں کے بادشاہ کو تبع،
ہندوستان کے بادشاہ کو راجہ،
انگریزوں کے بادشاہ کو جارج یا ایڈورڈ کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرب و جوار کے بادشاہوں اور حکمرانوں کو خطوط لکھے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4611]

Sahih Muslim Hadith 4611 in Urdu