علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب الصيد بالكلاب المعلمة:
باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1930 ترقیم شاملہ: -- 4984
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ.
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4984]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، مگر ابن وھب کی حدیث میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4984 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4984
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اہل کتاب کے برتن اس صورت میں استعمال کرنا درست نہیں ہے،
جبکہ دوسرے برتن دستیاب ہوں،
اگر دوسرے برتن میسر ہوں،
پھر ان لوگوں کے برتن استعمال نہیں کرنا چاہیے،
فقہاء اس کو ادب و اخلاق پر محمول کرتے ہوئے نہی تنزیہی قرار دیتے ہیں،
اس لیے ان کے نزدیک اہل کتاب کے برتن عام حالات میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور اگر ان کے بارے میں یہ علم ہو ان میں کوئی نجس چیز نہیں ڈالی گئی تو پھر دھوئے بغیر بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی نجس (پلید)
یعنی خنزیر اور شراب وغیرہ ڈالی گئی ہو تو ان کو دھونے کے بعد استعمال کیا جائے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اہل کتاب کے برتن اس صورت میں استعمال کرنا درست نہیں ہے،
جبکہ دوسرے برتن دستیاب ہوں،
اگر دوسرے برتن میسر ہوں،
پھر ان لوگوں کے برتن استعمال نہیں کرنا چاہیے،
فقہاء اس کو ادب و اخلاق پر محمول کرتے ہوئے نہی تنزیہی قرار دیتے ہیں،
اس لیے ان کے نزدیک اہل کتاب کے برتن عام حالات میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور اگر ان کے بارے میں یہ علم ہو ان میں کوئی نجس چیز نہیں ڈالی گئی تو پھر دھوئے بغیر بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی نجس (پلید)
یعنی خنزیر اور شراب وغیرہ ڈالی گئی ہو تو ان کو دھونے کے بعد استعمال کیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4984]
Sahih Muslim Hadith 4984 in Urdu
عبد الله بن يزيد العدوي ← حيوة بن شريح التجيبي