صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب بيان ان كل مسكر خمر وان كل خمر حرام:
باب: ہر نشہ لانے والی شراب خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2002 ترقیم شاملہ: -- 5217
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟، قَالَ: " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا، جیشان یمن میں ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سرزمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنایا جاتا تھا، اس کا نام مزر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، بلاشبہ اللہ عزوجل کا (اپنے اوپر یہ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال پلائے گا۔“ پوچھا گیا: طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ یا (فرمایا:) جہنمیوں کا نچوڑ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5217]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی یمن کے علاقہ جیشان سے آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مشروب کے بارے میں پوچھا، جسے وہ اپنی سرزمین میں مکئی سے بنا کر پیتے تھے، جسے «الْمِزْرُ» ”مِزر“ کہا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ لیا ہے کہ جو نشہ آور مشروب پیے گا، اسے وہ دوزخیوں کی پیپ یا ان کا پسینہ پلائے گا۔“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «طِينَةُ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دوزخیوں کا پسینہ ہے یا دوزخیوں کا نچوڑ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2002
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 5217 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري