🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب:
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 220 ترقیم شاملہ: -- 527
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَاذَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، فَقَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ، فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ؟، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتَ مِنْهُمْ؟، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین بن عبدالرحمن نے خبر دی۔ کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے پوچھا: تم میں سے وہ ستارہ کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا؟ میں نے کہا: میں نے۔ پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے دم کروایا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی۔ انہوں نے پوچھا: شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا: انہوں نے ہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کے ڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں۔ تو سعید نے کہا: جس نے سنا، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا۔ لیکن ہمیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا: میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی اور نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا۔ اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی، مجھے گمان ہوا کہ یہ میری امت ہے۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔ لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں۔ میں نے دیکھا تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھے بتایا گیا: یہ آپ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ایسے ستر ہزار (لوگ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپ اٹھے اور اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے بعض نے کہا: شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ بعض نے کہا: شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔ اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ پھر کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو؟ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ شگون لیتے ہیں، اور وہ اپنے رب پر پورا توکل کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: دعا فرمائیے! اللہ مجھے (بھی) ان میں سے کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: عکاشہ اس فرمائش کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 527]
حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، کہ میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس تھا، انہوں نے پوچھا: کل شام ٹوٹنے والا ستارہ تم میں سے کس نے دیکھا؟ میں نے کہا: میں نے۔ پھر میں نے کہا: میں نماز میں نہیں تھا، کیونکہ مجھے بچھو نے ڈسا تھا۔ انہوں نے کہا: تو تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے دم کروایا۔ انہوں نے کہا: تو تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث نے، جو ہمیں شعبی رحمہ اللہ نے سنائی۔ تو انہوں نے کہا: شعبی رحمہ اللہ نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا: شعبی رحمہ اللہ نے ہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی، انہوں نے بتایا: دم، نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے ہی ہے۔ تو سعید رحمہ اللہ نے کہا: جس نے جو سنا اس پر عمل کیا، تو نے اچھا کیا، لیکن ہمیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنایا آپ نے فرمایا: مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں، میں نے بعض انبیاء علیہم السلام کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا۔ کسی نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، بعض کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا۔ اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت ظاہر ہوئی، میں نے خیال کیا یہ لوگ میرے امتی ہیں، تو مجھے بتایا گیا: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، لیکن آپ آسمان کے افق (کنارے) کی طرف دیکھیں۔ میں نے دیکھا، تو ایک بہت بڑی جماعت تھی، تو مجھے کہا گیا: دوسرے آسمانی کنارے کی طرف دیکھو! تو میں نے دیکھا، ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ تو مجھے بتایا گیا یہ تیری امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ہیں، جو بلا حساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور گھر چلے گئے، تو لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) ان لوگوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ تو بعض نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہوں گے، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رفاقت کا شرف حاصل ہے۔ بعض نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔ اور بعض نے کچھ اور باتوں کا تذکرہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تم کن باتوں میں مشغول ہو؟ یعنی (کس مسئلہ پر بحث کر رہے ہو) انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، اس پر آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ دم کرتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں اور نہ بدشگونی پکڑتے ہیں، اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں! کہ مجھے بھی ایسے لوگوں سے کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں! اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے عکاشہ سبقت لے گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء وفاة موسى ذكره بعد حدیث (3410) مختصراً وفى الطب، باب: مناکتوی، او کوی غیره، وفضل من لم يكتو برقم (5705) وفي باب: من لم يرق برقم (5752) وفي الرقاق، باب: ﴿ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ برقم (6472) وفي، باب: يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب برقم (6541) والترمذي في ((جـامـعـه)) في الزهد، باب: 16 برقم (22446) وقال: هذا حديث حسن صحيح ((تحفة الاشراف)) (5493)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب
Newبريدة بن الحصيب الأسلمي ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة متقن
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 527 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 527
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
انْقَضَّ:
ٹوٹا،
گرا۔
(2)
الْبَارِحَة:
گزشتہ رات۔
(3)
لُدِغْتُ:
مجھے بچھو یا زہریلی چیز نے ڈس لیا۔
(4)
عَيْنٌ:
نظر بد لگنا۔
(5)
حُمَةٌ:
زہر،
ڈنک یا اس کی شدت و حرارت۔
(6)
الرُّهَيْطُ:
رَهْطٌ کی تصغیر ہے،
دس سے کم افراد کا گروہ۔
(7)
خَاضَ فِيْهِ:
کسي چیز میں مشغول ہونا،
"خَاضَ فِيْ الْحَدِيْثِ" کا معنی ہوتا ہے،
گفتگو میں مشغول ہونا۔
فوائد ومسائل:
حضرت بریدہ ؓ کی حدیث کا مطلب یہ ہے،
کہ نظرِ بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے صحیح دم کرنا بہت جلد فائدہ پہنچاتا ہے،
جیسا کہ حضرت ابو سعید خدریؓ نے فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا،
تو وہ شخص فوراً صحت مند ہوگیا تھا اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ اس کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔
دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں ہے،
دوسری حدیث کا صحیح مفہوم ہم بیان کر چکے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 527]

Sahih Muslim Hadith 527 in Urdu