صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه وان الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2110 ترقیم شاملہ: -- 5540
قَالَ مُسْلِم: قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ "، وقَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ، وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ.
امام مسلم نے کہا: میں نے نصر بن علی جہضمی کے ساتھ عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ سے حدیث پڑھی کہ ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے (حضرت حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابی حسن سے روایت بیان کی، کہا: ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اس نے کہا: میں یہ (جانداروں کی) تصویریں بناتا ہوں، آپ مجھے ان کے متعلق فتویٰ دیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے قریب آؤ وہ قریب ہوا انہوں نے پھر فرمایا میرے قریب آؤ وہ (مزید قریب آیا) آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”میں تم کو وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ہر تصویر بنانے والا جہنم میں ہو گا اور اس کی بنائی ہوئی تصویر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک جاندار بنائے گا وہ اسے جہنم میں عذاب دے گا۔“ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے ضرور (یہی کام) کرنا ہے تو درختوں کی اور جن چیزوں میں جان نہیں ان کی تصویر بناؤ۔ نصر بن علی نے (جب میں نے ان کے سامنے یہ حدیث پڑھی) اس کا اقرار کیا (کہ انہوں نے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ سے اسی طرح روایت کی۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5540]
سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں ایسا آدمی ہوں کہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں تو آپ مجھے ان کے بارے میں فتویٰ دیں تو انہوں نے اس سے کہا، میرے قریب ہو جا تو وہ ان کے قریب ہو گیا، پھر انہوں نے کہا، میرے قریب ہو جا تو وہ اور قریب ہو گیا، حتی کہ انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا، میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ہر تصویر بنانے والا دوزخ میں ہو گا اور اللہ اسے ہر تصویر کے عوض میں، جو اس نے بنائی ہو گی، ایک جان دے گا، جو اس کو جہنم میں دکھ پہنچائے گی۔“ اور فرمایا: اگر تجھے ضرور ہی تصویر بنانا ہے تو درخت کی تصویر اور بے جان چیز کی تصویر بنا، امام مسلم نے یہ حدیث اپنے استاد نصر بن علی جہضمی کو سنائی تو انہوں نے اس کا اقرار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2110
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5540 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5540
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
شجر،
حجر،
دریا،
پہاڑ،
عمارات اور ہر اس چیز کی تصویر بنانا جائز ہے،
جس میں روح نہیں ہے،
کیونکہ ایسی چیزیں انسان اپنے لیے بناتا ہے،
یا کاشت کرتا ہے،
جن میں روح نہیں ہے اور یہ بے شمار ہیں،
اس لیے اگر کسی کو فوٹو گرافی ہی کا شوق ہے،
یا یہی اس کا پیشہ ہے تو وہ ان چیزوں کی تصاویر بنا سکتا ہے،
یا اتار سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
شجر،
حجر،
دریا،
پہاڑ،
عمارات اور ہر اس چیز کی تصویر بنانا جائز ہے،
جس میں روح نہیں ہے،
کیونکہ ایسی چیزیں انسان اپنے لیے بناتا ہے،
یا کاشت کرتا ہے،
جن میں روح نہیں ہے اور یہ بے شمار ہیں،
اس لیے اگر کسی کو فوٹو گرافی ہی کا شوق ہے،
یا یہی اس کا پیشہ ہے تو وہ ان چیزوں کی تصاویر بنا سکتا ہے،
یا اتار سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5540]
سعيد بن يسار الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي