صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الاِسْتِئْذَانِ:
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2154 ترقیم شاملہ: -- 5634
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَيبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ.
علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: تو انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابومنذر! (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابن خطاب! تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عذاب نہ بنیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5634]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے اس میں ”اے ابو منذر! (یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کیا تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہاں اے ابن الخطاب! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے عذاب نہ بن۔“ لیکن اس میں یہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور بعد کا جملہ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2154
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥طلحة بن يحيى القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥علي بن هاشم البريدي، أبو الحسن علي بن هاشم البريدي ← طلحة بن يحيى القرشي | صدوق يتشيع | |
👤←👥عبد الله بن عمر القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر القرشي ← علي بن هاشم البريدي | ثقة |
Sahih Muslim Hadith 5634 in Urdu
علي بن هاشم البريدي ← طلحة بن يحيى القرشي