صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب من فضائل عثمان بن عفان رضي الله عنه:
باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2402 ترقیم شاملہ: -- 6210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ: " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ، فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي لَمْ أَرَكَ، فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید بن عاص سے روایت کی، انہیں سعید بن عاص نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لیے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اپنے کپڑے اپنے اوپر اکھٹے کر لو۔“ پھر میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ کیا اور واپس آگیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اس طرح ہڑبڑا کر اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اٹھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان انتہائی حیادار ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6210]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لیے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اپنے کپڑے اپنے اوپر اکٹھے کر لو۔“ پھر میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ کیا اور واپس آ گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اس طرح ہڑبڑا کے اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اٹھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان انتہائی حیا دار ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2402
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6210 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6210
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مرط عائشة:
عائشہ کی گرم چادر۔
(2)
كما فزعت لعثمان:
جیسے آپ نے عثمان کے لیے اہتمام کیا اور ان کو اہمیت دی۔
مفردات الحدیث:
(1)
مرط عائشة:
عائشہ کی گرم چادر۔
(2)
كما فزعت لعثمان:
جیسے آپ نے عثمان کے لیے اہتمام کیا اور ان کو اہمیت دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6210]
Sahih Muslim Hadith 6210 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عثمان بن عفان