Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب مؤاخاة النبي صلى الله عليه وسلم بين اصحابه رضي الله تعالى عنهم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصحاب میں ایک دوسرے کو بھائی بنا دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2528 ترقیم شاملہ: -- 6462
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6462]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح اورابوطلحہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد
Newالحجاج بن الشاعر ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6462 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6462
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اخوت یا مواخاۃ کا معنی ہے،
ان کو بھائی بھائی بنانا تاکہ وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ہمدرد و مددگار بنیں اور وہ ایک دوسرے کے وارث ٹھہریں،
اس کو جاہلیت کے دور میں حلف اور دوستانے کا نام دیا جاتا تھا،
اسلام میں اس کو برقرار رکھا گیا،
حتی کہ جب وراثت کو رشتہ داروں کے ساتھ خاص کر دیا گیا تو پھر وراثت والا حصہ منسوخ ہو گیا،
لیکن ہمدردی (غمگساری)
اور مدد و نصرت کا حصہ برقرار رکھا اور لا حلف فی الاسلام،
اسلام میں دوستانہ نہیں ہے،
کا یہی مطلب ہے کہ اب انہیں جاہلیت کے دور کی طرح اخوت کی بنا پر نسبی بھائی کی طرح وارث نہیں بنایا جا سکتا،
وراثت انہیں اصولوں کے مطابق تقسیم ہو گی جو اسلام نے طے کر دئیے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6462]