صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصحاب میں ایک دوسرے کو بھائی بنا دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2528 ترقیم شاملہ: -- 6462
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6462]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح اورابوطلحہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2529 ترقیم شاملہ: -- 6463
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: قِيلَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ أَنَسٌ : قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ ".
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں حلیف بننا بنانا (جائز) نہیں۔“؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6463]
عاصم احول رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا،کیاآپ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا،"اسلام میں حلف دوستی کااعتبار نہیں تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کےدرمیان اخوت کا رشتہ میرے گھر میں قائم کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2529
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2529 ترقیم شاملہ: -- 6464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ، فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ ".
عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6464]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان میرے مدینے والے گھر میں دوستانہ قائم کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2529
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2530 ترقیم شاملہ: -- 6465
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً ".
سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6465]
حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اسلام میں دوستانہ کی ضرورت نہیں(کیونکہ اسلام خود اخوت ومودت کا نام ہے) اور جو دوستانہ جاہلیت کے دور میں تھا اسلام نے اس کومزیدمضبوط کیاہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة