صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ:
باب: جو شخص اللہ سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2683 ترقیم شاملہ: -- 6820
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ "،
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے، اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6820]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2683
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6820 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6820
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس باب میں آنے والے احادیث کے مجموعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا موقعہ اور محل وہ وقت ہے،
جب انسان نزع (جان کنی)
کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کو آخرت میں اپنے انجام کی خبر دے دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لیے جو جزا یا سزا ہوتی ہے،
وہ اس پر منکشف کر دی جاتی ہے،
جس کی پوری وضاحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آ رہی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس باب میں آنے والے احادیث کے مجموعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا موقعہ اور محل وہ وقت ہے،
جب انسان نزع (جان کنی)
کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کو آخرت میں اپنے انجام کی خبر دے دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لیے جو جزا یا سزا ہوتی ہے،
وہ اس پر منکشف کر دی جاتی ہے،
جس کی پوری وضاحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آ رہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6820]
Sahih Muslim Hadith 6820 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري