صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قصة اصحاب الغار الثلاثة ، والتوسل بصالح الاعمال
باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
ترقیم عبدالباقی: 2743 ترقیم شاملہ: -- 6951
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص (کسی غرض سے) روانہ ہوئے، حتیٰ کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی۔“ پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا: ”اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا، نہ مال کو (اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں) دودھ پلاتا تھا۔“ اور (یہ بھی) کہا: ”(میری عم زاد) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے (سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے) ایک سو بیس دینار دیے۔“ اور (تیسرے شخص کے واقعے میں) اس نے کہا: ”میں نے اس کی اجرت کو (کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے) خوب بار آور بنایا، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے۔“ اور آخر میں کہا: ”تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرقاق/حدیث: 6951]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں تین اشخاص روانہ ہوئے حتی کہ سونے کے لیے غار میں پناہ یا جگہ لی۔“ آگے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں رات کو ان سے پہلے اپنے اہل اور مال کو دودھ نہیں پلاتا تھا۔“ اور دوسرے نے کہا: ”اس نے مجھ سے (بدکاری کرنے سے) انکار کیا حتی کہ وہ خشک سالی کا شکار ہو گئی تو میرے پاس آئی، سو میں نے اسے ایک سو بیس دینار دیے۔“ اور تیسرے نے: ”سو میں نے اس کی مزدوری کو بڑھایا حتی کہ اس سے مال میں بہت اضافہ ہو گیا اور وہ موجیں مارنے لگا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غار سے نکل کر چل پڑے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرقاق/حدیث: 6951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2743
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6951 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6951
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
غبوق:
رات کے دودھ پینے کو کہتے ہیں اور صبوح صبح کے وقت دودھ پینا اور مال سے مراد نوکر،
چاکر یا چوپایوں کے چھوٹے بچے ہوں گے۔
(2)
المت بهاسنة:
وہ قحط سالی میں گرفتارہوگی۔
ثمرت اجره،
میں نے اس کی مزدوری کو ترقی دی،
اس میں اضافہ کیا،
ارتعجب:
وہ مال اپنی کثرت کی بنا پر موجیں مارنے لگا،
ارتعجاج،
حرکت وگردش کو کہتے ہیں۔
مفردات الحدیث:
(1)
غبوق:
رات کے دودھ پینے کو کہتے ہیں اور صبوح صبح کے وقت دودھ پینا اور مال سے مراد نوکر،
چاکر یا چوپایوں کے چھوٹے بچے ہوں گے۔
(2)
المت بهاسنة:
وہ قحط سالی میں گرفتارہوگی۔
ثمرت اجره،
میں نے اس کی مزدوری کو ترقی دی،
اس میں اضافہ کیا،
ارتعجب:
وہ مال اپنی کثرت کی بنا پر موجیں مارنے لگا،
ارتعجاج،
حرکت وگردش کو کہتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6951]
Sahih Muslim Hadith 6951 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي