صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب صفة القيامة والجنة والنار
باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2786 ترقیم شاملہ: -- 7046
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 "،
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7046]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یا اے ابو القاسم! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی سے پکڑے گا، پانی اور نمدار زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا، پھر ان کو حرکت دے گا، ہلائے گا اور فرمائے گا: میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں، میں ہی اصل بادشاہ ہوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی عالم کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ” ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [سورة الزمر: 67] ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جیسا کہ اس کی قدر و منزلت کا حق ہے، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوں گے۔ وہ پاک اور بالاتر ہے ان سے جن کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7046 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7046
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ اس کائنات کاخالق ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ہے،
اس لیے اس کے ہاتھ،
انگلی اور اس کی مٹھی کی حقیقت وماہیت کو جاننا مخلوق کے بس میں نہیں ہے،
جب اس کا دیدار ہو گا تو پھر ان کے بارے میں معمولی شدبد حاصل ہو سکے گی،
حدیث کااصل مقصود،
اس کی قدرت وطاقت اور اقتداروغلبہ بیان کرنا ہے کہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اورہیچ ہے،
اس حقیقت کو سمجھنےکےباوجودلوگ اس کی قدرومنزلت کوملحوظ نہیں رکھتے اور بےدھڑک اس کی نافرمانی اور سرکشی اختیار کرتےہیں۔
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ اس کائنات کاخالق ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ہے،
اس لیے اس کے ہاتھ،
انگلی اور اس کی مٹھی کی حقیقت وماہیت کو جاننا مخلوق کے بس میں نہیں ہے،
جب اس کا دیدار ہو گا تو پھر ان کے بارے میں معمولی شدبد حاصل ہو سکے گی،
حدیث کااصل مقصود،
اس کی قدرت وطاقت اور اقتداروغلبہ بیان کرنا ہے کہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اورہیچ ہے،
اس حقیقت کو سمجھنےکےباوجودلوگ اس کی قدرومنزلت کوملحوظ نہیں رکھتے اور بےدھڑک اس کی نافرمانی اور سرکشی اختیار کرتےہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7046]
Sahih Muslim Hadith 7046 in Urdu
عبيدة بن عمرو السلمانى ← عبد الله بن مسعود