🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب عرض مقعد الميت من الجنة او النار عليه وإثبات عذاب القبر والتعوذ منه:
باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2874 ترقیم شاملہ: -- 7223
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا "، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا؟، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا "، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ "،
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکار کر فرمایا: اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے وہ وعدہ سچا نہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے جبکہ وہ تو لاشیں بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7223]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک مقتولینِ بدر کو رہنے دیا۔ پھر ان کے پاس آئے اور ان پر کھڑے ہو کر ان کو آواز دی: اے ابو جہل بن ہشام، اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! کیا اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا اس کو وقوع پذیر ہوتے پا لیا؟ کیونکہ میں نے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا اس کو شدنی (واقع ہوتے) پا لیا۔ سو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے سنیں گے جواب دے سکیں گے، جبکہ یہ لاش بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو، لیکن انہیں جواب دینے کی قدرت حاصل نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کھینچنے کا حکم دیا تو انہیں کھینچ کر بدر کے کھڈ میں ڈال دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7223 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7223
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ثم اَمَرَ بهم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ انہیں آپ کے ان کو مخاطب کرنے کے بعدکھڈ یا کچے کنویں میں ڈالا گیا،
بلکہ یہ معنی ہے کہ خطاب کے علاوہ،
ان سے یہ سلوک بھی کیا گیا،
جیسا کہ سورہ بلد میں اعمال کے تذکرہ کے بعد فرمایا ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا کہ یہ بات بھی ہے کہ وہ مومن ہو،
''اور امیہ بن خلف اگرچہ کھڈ میں نہیں ڈالا گیا تھا،
کیونکہ بھاری بھرکم ہونے کی وجہ سے وہ پھول کر پھٹ گیا تھا،
لیکن اس کو ان لاشوں کے قریب ہی رکھ کر مٹی اور پتھروں سے چھپا دیا گیا تھا،
اس لیے آپ نے اس کو بھی مخاطب فرمایا،
نیز اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام یہی سمجھتے تھے کہ مردے سنتے نہیں ہیں،
اس لیے انہوں نے حیرت زدہ ہو کر آپ سے سوال کیا کہ آپ ان لاشوں سے کیوں کر مخاطب ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7223]

Sahih Muslim Hadith 7223 in Urdu