صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب إثبات الحساب:
باب: حساب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2876 ترقیم شاملہ: -- 7226
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد بن زید نے کہا: ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7226]
اس قسم کی روایت مصنف دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل الفضيل بن الحسين الجحدري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← الفضيل بن الحسين الجحدري | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7226 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7226
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
محاسبہ یا حساب کی دوصورتیں ہیں،
(1)
انسان کے سامنے اس کے گناہ پیش کرکے،
اس سے اعتراف واقرار کرواکر،
اس کو معاف کردینا،
جیسا کے حضرت ابن عمر کی روایت،
کتاب التوبہ میں،
اللہ کی بندہ کے ساتھ سرگوشی کے سلسلہ میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو اپنے قریب کرے گا اور اس کو اپنے کنف (پہلو)
میں لےکر اس سے اس کے گناہ کا اقرار کروائے گا اور پوچھے گا هل تعرف کیا ان کو پہچانتے ہو؟وہ عرض کرے گا،
پہچانتا ہوں،
اللہ فرمائے گا،
میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج تمہیں معاف کرتا ہوں،
اس کو حسابا يسيرا (آسان حساب)
سے تعبیر کیا گیا۔
گویا مطلق بلا قید حساب سے مراد مناقشہ ہے اور حساب یسیر جس میں یسیر کی قید ہے اس سے مناقشہ مراد نہیں ہے بلکہ محض پیشی مراد ہے۔
(2)
محاسبہ،
مناقشہ کے معنی میں ہے کہ اس سے پوچھا جائے گا اور یہ گناہ کیوں کیا تھا،
جس سے یہ سوال ہوگیا،
وہ مارا گیا اور دوزخ کا شکار ہوگیا۔
فوائد ومسائل:
محاسبہ یا حساب کی دوصورتیں ہیں،
(1)
انسان کے سامنے اس کے گناہ پیش کرکے،
اس سے اعتراف واقرار کرواکر،
اس کو معاف کردینا،
جیسا کے حضرت ابن عمر کی روایت،
کتاب التوبہ میں،
اللہ کی بندہ کے ساتھ سرگوشی کے سلسلہ میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو اپنے قریب کرے گا اور اس کو اپنے کنف (پہلو)
میں لےکر اس سے اس کے گناہ کا اقرار کروائے گا اور پوچھے گا هل تعرف کیا ان کو پہچانتے ہو؟وہ عرض کرے گا،
پہچانتا ہوں،
اللہ فرمائے گا،
میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج تمہیں معاف کرتا ہوں،
اس کو حسابا يسيرا (آسان حساب)
سے تعبیر کیا گیا۔
گویا مطلق بلا قید حساب سے مراد مناقشہ ہے اور حساب یسیر جس میں یسیر کی قید ہے اس سے مناقشہ مراد نہیں ہے بلکہ محض پیشی مراد ہے۔
(2)
محاسبہ،
مناقشہ کے معنی میں ہے کہ اس سے پوچھا جائے گا اور یہ گناہ کیوں کیا تھا،
جس سے یہ سوال ہوگیا،
وہ مارا گیا اور دوزخ کا شکار ہوگیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7226]
Sahih Muslim Hadith 7226 in Urdu
حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني