🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيتمنى ان يكون مكان الميت من البلاء:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2915 ترقیم شاملہ: -- 7321
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ، أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ، وَيَقُولُ: يَا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ.
اور خالد بن حارث اور نضر بن شمیل دونوں نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، البتہ نضر کی حدیث میں ہے: مجھے مجھ سے بہتر شخص ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور خالد بن حارث کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے ان کی مراد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ اور خالد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: افسوس! یا فرمایا: وائے افسوس ابن سمیہ پر! [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7321]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، نضر کی حدیث میں ہے: مجھے مجھ سے بہتر شخص حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا۔ اور خالد بن حارث کی حدیث میں ہے، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے وہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور خالد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «وَيْسَ» یا «وَيْسَ ابْنَ سُمَيَّةَ» اے حسرت و افسوس ابنِ سمیہ پر، یعنی اے حسرت و افسوس، یہ لفظ «صَرِيح» کی جگہ آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2915
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥سعيد بن يزيد الطاحي، أبو مسلمة
Newسعيد بن يزيد الطاحي ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سعيد بن يزيد الطاحي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن قدامة السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن قدامة السلمي ← النضر بن شميل المازني
ثقة
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← محمد بن قدامة السلمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← محمود بن غيلان العدوي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← إسحاق بن منصور الكوسج
ثقة حافظ إمام
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت
👤←👥هريم بن عبد الأعلى الأسدي، أبو حمزة
Newهريم بن عبد الأعلى الأسدي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
👤←👥محمد بن معاذ العنبري
Newمحمد بن معاذ العنبري ← هريم بن عبد الأعلى الأسدي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7321 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7321
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو مصر کے حالات کا جائزہ لینے روانہ فرمایا تھا اور وہ مصری باغیوں کے بھرا میں آگئے تھے اور انہیں کے ساتھ مل گئے تھے اور جنگ صفین میں ان کے ساتھ شہید ہوئے،
اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے،
ان کے قاتلین وہی ہیں،
جوان کو لے کر آئے ہیں،
اس بنا پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اپنے لیے دلیل نہیں بنایا۔
اور امت کی اکثریت نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گروہ میں شہادت کو حضرت علی کے حق پر ہونے کی دلیل بنایا ہے اور ان کی خلافت کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ میں اپنے خلافت کا دعویٰ کیا تھا،
قابل توجہ بات تو ان کی باہمی لڑائی ہے جس کی اساس و بنیاد،
حضرت عثمان کے قاتلین سے قصاص لینے کا مسئلہ ہے،
حضرت معاویہ اس کے لیے تلوار اٹھانے کو جائز سمجھتے تھے،
کیونکہ صلح حدیبیہ کےمو قع پر جب حضرت عثمان کی شہادت کی افواہ پھیل گئی تو آپ نے ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ کرام سے لڑنے مرنے پر بیعت لی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال تھا،
معاویہ پہلے میری بیعت کرکے،
میرے ہاتھ مضبوط کریں،
اس کے بغیر قاتلین عثمان پر قابو نہیں پایا جاسکتا،
کیونکہ وہ اپنے تحفظ کےلیے،
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں گھس چکے تھے اور انہیں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی بنا پر،
حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کسی سمجھوتہ پر پہنچ نہ سکے،
وگرنہ دونوں ہی جنگ سے گریز کرتے تھے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ نے شہید کیا ہے اور نام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کا لگایا ہے،
اس لیے وہ ان کی شہادت کو اپنے حق میں دلیل خیال کرتے تھے۔
(دیکھئے طبقات ابن سعد ج 3 ص253،
بحوالہ منتہ المنھم ج 4 ص 363)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7321]

Sahih Muslim Hadith 7321 in Urdu