🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2931 ترقیم شاملہ: -- 7355
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ "،
سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: اس (سابقہ واقعے) کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ میں گئے جس میں ابن صیاد تھا، باغ میں داخل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں ہونے لگے تاکہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے آپ اس کی کوئی بات سن لیں، وہ بستر پر ایک نرم چادر میں (اسے اوڑھ کر لیٹا) ہوا تھا، اس کے اندر سے اس کی گنگاہٹ کی آواز آ رہی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کی آڑ لے رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور وہ ابن صیاد سے کہنے لگی: صاف!۔۔۔اور یہ ابن صیاد کا نام تھا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (آئے) ہیں۔ ابن صیاد اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو (اسی حالت میں) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنا معاملہ) واضح کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7355]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ اس نخلستان میں گئے جہاں ابن صیاد تھا، حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں داخل ہو گئے تو کھجوروں کے تنوں کی آڑ (اوٹ) لینے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کوشش کر رہے تھے کہ قبل اس کے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے، آپ اس کی کوئی بات سن لیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ بستر پر ایک چادر میں لیٹا ہوا گنگنا رہا ہے، سو ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی اوٹ لے رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ ابن صیاد کا نام ہے) یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، تو ابن صیاد اچھل پڑا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اسے رہنے دیتی (اطلاع نہ دیتی) تو وہ اپنی اصلیت بیان کر دیتا۔ یعنی اس کی باتوں سے اس کی اصلیت نمایاں ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


Sahih Muslim Hadith 7355 in Urdu