مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضْلُ صَلَاةِ الفَجْرِ بِالجَمَاعَةِ)
فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1080
1080 - وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَإِنَّ عُمَرَ غَدَا إِلَى السُّوقِ، وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوقِ، فَمَرَّ عَلَى الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ، فَقَالَ لَهَا: لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: لَأَنْ أَشْهَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً. رَوَاهُ مَالِكٌ.
ابوبکر بن سلیمان بن ابو حثمہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن ابو حثمہ کو نمازِ فجر میں نہ پایا، اور عمر رضی اللہ عنہ بازار تشریف لے گئے، سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان واقع تھا، تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان سے پوچھا: میں نے نمازِ فجر میں سلیمان کو نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے عرض کیا: وہ رات بھر نماز پڑھتا رہا اور پھر اسے نیند آ گئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نمازِ فجر باجماعت ادا کر لوں تو یہ مجھے رات بھر قیام کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک (1/ 131 ح 292)
٭ أبو بکر بن سليمان بن أبي حثمة لم يذکر من حدّثه به.»
٭ أبو بکر بن سليمان بن أبي حثمة لم يذکر من حدّثه به.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 1080 in Urdu