مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَمْ رَكْعَةً تُصَلَّى بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کی نماز کے بعد کتنی رکعتیں پڑھی جائیں
حدیث نمبر: 1187
1187 - وَعَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا. وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں نمازِ جمعہ ادا فرماتے تو تھوڑا سا آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ ابوداوٗد، اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے: انہوں نے بیان کیا، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ صحیح، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1130) والترمذي (522 وقال: حسن صحيح.) [و صححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (430) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 1187 in Urdu