🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3.24. (حديث الله تعالى مع ذرية آدم)
اللہ تعالیٰ کا زریت آدم کے ساتھ گفتگو فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
122 - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ) قَالَ: جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَزْوَاجًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ، وَالْمِيثَاقَ، (وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ) . قَالُوا: بَلَى. قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ، وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا. اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، وَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا. إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي، وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي. قَالُوا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا، وَإِلَهُنَا. لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ، وَرُفِعَ عَلَيْهِمْ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ، وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ، وَدُونَ ذَلِكَ. فَقَالَ: رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَشْكُرَ، وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَيْهِمُ النُّورُ، خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ، وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَبَارَكَ، وَتَعَالَى: (وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ) إِلَى قَوْلِهِ: (وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ) كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ: أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمَدٌ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [سورة الأعراف: 172] کی تفسیر میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع کیا تو ان کی مختلف اصناف بنا دیں، پھر ان کی تصویر کشی کی، انہیں بولنے کو کہا تو انہوں نے کلام کیا، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں ان کی جانوں پر گواہ بنایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو تم پر گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم روزِ قیامت یہ نہ کہو کہ ہمیں اس کا پتا نہیں، جان لو کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق ہے نہ کوئی رب، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، میں اپنے رسول تمہاری طرف بھیجوں گا وہ میرا عہد و میثاق تمہیں یاد دلاتے رہیں گے اور میں اپنی کتابیں تم پر نازل فرماؤں گا، تو انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی رب ہے نہ معبود، انہوں نے اس کا اقرار کر لیا، اور آدم علیہ السلام کو ان پر ظاہر کیا گیا، وہ انہیں دیکھنے لگے تو انہوں نے غنی و فقیر اور خوبصورت و بدصورت کو دیکھا تو عرض کیا: پروردگار! تو نے اپنے بندوں میں مساوات کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے، اور انہوں نے انبیا علیہم السلام کو دیکھا، وہ ان میں چراغوں کی طرح تھے، ان پر نور (برس رہا) تھا، اور ان سے رسالت و نبوت کے بارے میں خصوصی عہد لیا گیا، اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی عہد مراد ہے: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ [سورة الأحزاب: 7] عیسیٰ علیہ السلام ان ارواح میں تھے تو اللہ نے انہیں مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا کہ اس (روح) کو مریم علیہا السلام کے منہ کے ذریعے داخل کیا گیا۔ اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه [عبد الله بن] أحمد (5/ 135 ح 21552) [و الفريابي في کتاب القدر: 52]
٭ سليمان التيمي مدلس و عنعن و باقي السند حسن و للحديث شاھد ضعيف عند الحاکم (323/2. 324 ح3255)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف


مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 122 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 122
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس کے راوی سلیمان بن طرخان التیمی ثقہ امام ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے۔
◈ امام یحییٰ بن معین نے فرمایا:
سلیمان التیمی تدلیس کرتے تھے۔ [تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 3600]
◈ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے انہیں مدلسین کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے، لیکن راجح یہی ہے کہ وہ طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں۔ دیکھیے: الفتح المبین [ص42]
◈ المستدرک للحاکم [323/2۔ 324] وغیرہ میں اس کی دوسری سند بھی ہے، لیکن وہ سند بھی ضعیف ہے۔ اس کے راویوں میں سے ابوجعفر الرازی اور ربیع بن انس دونوں جمہور کے نزدیک موثق ہیں، لہٰذا دونوں حسن الحدیث ہیں، لیکن ابوجعفر الرازی جب ربیع بن انس سے روایت کریں تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے۔ دیکھئے: کتاب الثقات لابن حبان [228/4]
◈ ربیع بن انس اور مغیری بن مقسم الضبی کے علاوہ دوسرے ثقہ و صدوق راویوں سے ابوجعفر الرازی کی روایت حسن ہوتی ہے اور اسی طرح ابوجعفر کے علاوہ اگر کوئی دوسرا ثقہ و صدوق راوی ربیع بن انس سے روایت بیان کرے تو وہ حسن لذاتہ ہوتی ہے۔ «والحمد للّٰه»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 122]

Mishkat al-Masabih Hadith 122 in Urdu