مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رَكْعَةُ وَاحِدَةٌ مِنْ وَتْرِ سَيِّدِنَا مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک رکعت وتر پڑھنا
حدیث نمبر: 1277
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1277 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ، إِنَّهُ فَقِيهٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ، وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابن ملیکہ رحمہ اللہ نے فرمایا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس موجود تھے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3765)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 1277 in Urdu