مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضَائِلُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کے دن درود پڑھنے کے فضائل
حدیث نمبر: 1366
1366 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ وہ مشہود ہے، اس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ جب تم میں سے کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اور وفات کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے انبیاء علیہم السلام کے اجساد کو کھانا زمین (مٹی) پر حرام کر دیا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہوتے ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1637)
٭ السند منقطع، زيد بن أيمن عن عبادة بن نسي: مرسل.»
٭ السند منقطع، زيد بن أيمن عن عبادة بن نسي: مرسل.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 1366 in Urdu