مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ النَّصِيحَةِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِيدِ)
نماز عید کے بعد نصیحت کا بیان
حدیث نمبر: 1429
1429 - وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ. خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ، وَحُلُوقِهِنَّ، يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عید پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نمازِ عید کے لیے) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، اور انہوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لے گئے تو انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کے متعلق حکم فرمایا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور اپنی گردنوں سے زیور اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کر رہی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف چلے گئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5249) و مسلم (884/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1429 in Urdu