مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يُصَلَّى صَلَاةُ عِيدِ الْأَضْحَى قَبْلَ الْقُرْبَانِ)
عید الاضحٰی کی نماز قربانی سے پہلے ادا کی جائے
حدیث نمبر: 1435
1435 - وَعَنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ، فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ، عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا تو فرمایا: ”آج کے دن ہم پہلے نماز پڑھیں گے پھر واپس جا کر قربانی کریں گے۔ جس نے ایسے کیا تو اس نے سنت کے مطابق کیا، اور جس نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ہے (محض گوشت کھانے کے لیے ذبح کی گئی ہے) اس نے اپنے اہل و عیال کے لیے جلدی ذبح کر لی، اس میں قربانی کا کوئی ثواب نہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (968) و مسلم (1961/7)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1435 in Urdu