مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (صَلَاةٌ وَتَسْبِيحٌ وَدُعَاءٌ فِي وَقْتِ خُسُوفِ الشَّمْسِ)
سور ج گرہن کے وقت نماز اور تسبیح اور دعا کرنا
حدیث نمبر: 1483
1483 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَتْ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ، وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مانند حدیث مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو سجدوں کو لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”آفتاب و ماہتاب اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے، پس جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی تکبیر بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے، اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1044) و مسلم (901/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1483 in Urdu