🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانٌ أَكْثَرُ فِي صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ)
نماز استسقاء کا مزید بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1508
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1508 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدْعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ، وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ  ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً، فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قحط سالی کی شکایت کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر کا حکم فرمایا، چنانچہ اسے آپ کے لیے عید گاہ میں رکھ دیا گیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے ایک معین دن کا وعدہ فرمایا، وہ اس روز باہر نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے گئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر بیٹھ گئے، اللہ کی کبریائی اور حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بروقت بارشوں کے نہ ہونے کی شکایت کی ہے، اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے دعا کی قبولیت کا تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿سورة الفاتحة: 2-4﴾ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، جو بہت مہربان نہایت رحم والا، روزِ جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، اے اللہ! تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقراء، ہم پر بارش برسا، اور جو تو (بارش) نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ بلند کیے اور انہیں بلند کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر دی اور اپنی چادر پلٹی، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی تک ہاتھ اٹھائے رکھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور نیچے اتر کر دو رکعتیں پڑھیں، پس اللہ تعالیٰ نے بادل کی ایک ٹکڑی بھیجی، گرج چمک پیدا ہوئی تو پھر اللہ کے حکم سے بارش ہونے لگی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی اپنی مسجد تک تشریف نہیں لائے تھے کہ نالے بہنے لگے، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنی جھونپڑیوں کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1173 وقال: ھذا حديث غريب إسناده جيد.) [وصححه ابن حبان (604) والحاکم (328/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


Mishkat al-Masabih Hadith 1508 in Urdu