مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نَصِيحَةٌ لِمُجْمِعِي الزَّكَاةِ)
زکوٰۃ جمع کرنے والے کے لئے نصیحت
حدیث نمبر: 1778
1778 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا"، ثُمَّ قَالَ:"يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عباس رضی اللہ عنہ نے زکوۃ روک لی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل تو اس وجہ سے انکار کرتا ہے کہ وہ تنگ دست تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے اسے مال دار کر دیا، رہا خالد، تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو، اس نے تو اپنی زرہیں اور آلاتِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھے ہیں، اور رہے عباس تو ان کی زکوۃ اور اس کے برابر وہ میرے ذمہ ہے۔“ پھر فرمایا: ”عمر! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1468) و مسلم (983/11)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1778 in Urdu